افغانستان کی صورتحال کے علاقائی و عالمی اثرات – Saad Rasool

27

امریکہ کے افغانستان سے بغیر کسی واضح یا یقینی منصوبے کے انخلا نے اس خطے کی سکیورٹی پر ایک وسیع اور گہرا سایہ ڈال دیا ہے۔ امریکہ کی ‘طویل ترین جنگ‘ کے اس غیر رسمی نتیجے کو ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا‘ جو 2001 ء میں امریکی حملے کاجواز تھی۔ افغانستان میں دہشت گردی‘ یا دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا امریکہ کے افغانستان میں رہنے یا اسے چھوڑنے کے فیصلے کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کے بجائے بیس سال تگ و دو کرنے اور دو ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد‘ امریکہ کا افغانستان سے انخلا یا اس علاقے میں اپنی کچھ فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی اس کی خواہش کو نئے عالمی نظم کی روشنی میں اور چین اور روس کے ساتھ امریکہ کے آئندہ ممکنہ تنازعات کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اسی طرح افغانستان سے امریکی انخلا کے ایسے نتائج و اثرات ہیں جو افغانستان کے علاقائی دائرہ اختیار اور امریکی خارجہ پالیسی کی ہیئت سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انخلا کا فیصلہ اس خطے میں خاص طور پر پاکستان‘ بھارت‘ چین‘ ایران‘ اور روس کے طویل مدتی مفادات پر براہِ راست اثر انداز ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے گہرے تجزیے کی ضرورت ہے۔ آئیے بھارت سے شروعات کریں۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران بھارت میں امریکہ کی جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا بھارت ہی ہے۔ نائن الیون کے بعد کی دنیا میں جب امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات تلخ ہو گئے تھے‘ تو بھارت نے اس موقع کو اپنے پانچ مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا (1): اس خطے میں خود کو امریکہ کا مقامی اور بنیادی حلیف ظاہر کرنا۔(2) :پاکستان کی مغربی سرحد پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا‘ اس طرح کشمیر اور بھارت سے پاکستانی فوج کی توجہ بٹانا۔ (3): معاشی اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے اپنی دولت اور سیاسی سرمائے کو افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کے فروغ کیلئے استعمال کرنا۔ (4): افغانستان میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانوں کو پاکستان اور افغانستان کے مابین ”اوپن بارڈر‘‘ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے استعمال کرنا اور تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینا۔ (5): افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کے تناظر میں دونوں ممالک کو بین الاقوامی دہشت گردی کے مرکز کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کرنا۔

امریکہ کا افغانستان سے انخلا یقینی طور پر خطے میں بھارتی منصوبوں کیلئے مایوسی کا باعث بنے گا۔ طالبان سے رابطے قائم کرنے کی حالیہ کوششوں کے باوجودبھارت جانتا ہے کہ وہ غلط جگہ پر پھنس گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت جس کی بھارت حمایت کرتا ہے‘ امریکی انخلا کے بعد زیادہ دیر نہیں چل سکے گی اور اس کے ساتھ ہی افغانستان میں بھارت کی گُڈ وِل تحلیل ہو جائے گی۔ طالبان پہلے ہی ریکارڈ پر یہ بیان دے چکے ہیں کہ بھارت نے ہمیشہ ملک میں ان کے ‘دشمنوں‘ کی حمایت کی ہے‘ نیزطالبان نے واضح طور پر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ کسی کو (مراد بھارت) عسکریت پسندی کی سرگرمیوں (پاکستان کے خلاف) کیلئے اپنے علاقے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکہ کے بعد کے افغانستان میں پاکستان کو کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔ ہو سکتا ہے یہ اتنا نہ ہو جتنا 1990ء کی دہائی کے دوران تھا لیکن یہ پچھلی دو دہائیوں میں حاصل رہنے والے اثرورسوخ سے کہیں زیادہ ہو گا۔ پھر بھی افغانستان میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے‘ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں: (1) افغانستان میں پُر تشدد واقعات کے نتیجے میں پاکستان میں مہاجرین کی ایک اور کھیپ داخل ہو گی جس کو سنبھالنا مشکل ہو گا۔ (2): پاکستان میں پناہ گزینوں کی آمد کے ساتھ افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا اور سی پیک کے روٹ کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ (3): طالبان یا دوسرے دھڑوں کے جانب سے افغانستان میں پُر تشدد کارروائیوں کے باعث پاکستان پر بین الاقوامی دبائو بڑھے گا کہ وہ امن قائم کرنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے یعنی ‘ڈومور‘ کی ایک نئی تان شروع ہو جائے گی۔ان حالات میں افغانستان میں پاکستان کی کوششیں تین بنیادی مقاصد لئے ہوئے ہیں (1): افغانستان میں سیاسی حل تک پہنچنا۔ (2) :پاکستان میں دہشت گردی کیلئے (بنیادی طور پر بھارت کی جانب سے) افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا اور (3) : وسطی ایشیا اور اس سے آگے کے سی پیک روٹ کو مربوط بنانے کیلئے افغانستان کے ساتھ تجارتی اور معاشی رابطوں میں اضافہ کرنا۔

یہ آخری مقصد پاکستان اور چین کا مشترکہ مقصد ہے‘ یعنی ایک پُرامن اور علاقائی طور پر منسلک افغانستان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا۔ اس خطے میں چینیوں کے منصوبے (امریکیوں کے برعکس) فطری طور پر معاشی ہیں۔ جیسے جیسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں وسعت آ رہی ہے پاکستان‘ ایران‘ افغانستان اور اس سے آگے کے علاقائی رابطوں کے ذریعے چین سی پیک کو زیادہ منافع بخش بنائے گا۔ ہم ایران کی بندرگاہ اور بنیادی انفراسٹرکچر نیٹ ورک کو ترقی دینے کے چین کے معاشی منصوبوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ موجودہ بی آر آئی روٹس کے ذریعے یہ علاقائی رابطہ کاری بہتر طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے اگر افغانستان وسطی ایشیا میں تجارتی راستہ بن سکے تو یہ پورے خطے میں چینی مفادات کو مضبوط بناتا ہے۔معاشی رابطہ کاری سے الگ‘ چین خطے میں امریکی فوجی موجودگی سے بھی خائف رہا ہے۔ افغانستان واخان راہداری کے ذریعے چین کے ساتھ ایک چھوٹی سی مشترکہ سرحد رکھتا ہے اور بڑی طاقتوں کے تصادم کے پس منظر کی وجہ سے چین کی دہلیز پر افغانستان میں امریکی فوج یا انٹیلی جنس کی موجودگی طویل مدتی چینی مفادات کو سوٹ نہیں کرتی۔

ذرا وسیع تناظر میں دیکھیں تو افغانستان میں کچھ دیگر علاقائی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ ایک: ایران‘ جس کی افغانستان کے ساتھ ایک سرحد مشترکہ ہے۔ اگرچہ طالبان اور ایران دوست نہیں ہیں لیکن ان کا دشمن مشترکہ ہے یعنی امریکہ۔ دونوں کا ایک مشترکہ دوست بھی ہے یعنی چین۔ ان حالات میں امریکہ کے بعد کے افغانستان میں زیادہ ایرانی اثرورسوخ کا امکان ہے۔ دوسرا: روس ہے‘ جس کے پاس امریکہ کو افغانستان میں نیچا دکھانے کا ایک تاریخی حوالہ موجود ہے۔ روس کی افغانستان کے ساتھ براہِ راست کوئی سرحد مشترکہ نہیں ہے لیکن اس کی اس بات کو یقینی بنانے میں دلچسپی ہے کہ روس مخالف قوتیں (یعنی امریکہ) خطے میں طاقت نہ پکڑ سکیں۔ اس مقصد کیلئے لگتا ہے کہ روس اپنے ایک تاریخی حلیف یعنی بھارت کے ساتھ متصادم ہے۔ چونکہ بھارت نے خود کو خطے میں امریکی مفادات کی بندرگاہ بنا رکھا ہے‘ لہٰذا روس بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اتحاد کا ازسر نو جائزہ لینے میں مصروف ہے۔ روس نے پہلے ہی کواڈ (چین کے خلاف تشکیل شدہ پیسفک فوجی اتحاد) کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے‘ جس کا بھارت ایک رکن ہے۔

پاکستان اور آس پاس کی علاقائی سیاست کیلئے یہ یادگار زمانہ ہے۔ نئے بین الاقوامی اتحاد بنائے جا رہے ہیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بنائے گئے پرانے ‘بلاکس‘ ختم ہو رہے ہیں۔ اس خطے میں نئی گریٹ گیم میں پاکستان اہم کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ ایک ایسا کردار جو چیلنجز اور مواقع پر مبنی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری قیادت‘ سویلین اور ملٹری‘ بین الاقوامی سفارت کاری میں اپنے آپ کو مضبوط کرے اور وہ اتحاد پیدا کرے جو نتیجہ خیز‘ ترقی پسند اور پُرامن پاکستان کو یقینی بنائے۔