اسرائیل فلسطین تنازع۔۔۔ – Dr Ramesh Kumar

24

فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیل کے بہیمانہ حملوں نے فلسطین ایشو کو ایک مرتبہ پھر عالمی میڈیا کی خبروں کی زینت بنادیا ہے، دنیا بھر کے میڈیا کی ٹاپ نیوزہیڈلائنز میںفلسطین سرفہرست ہے، حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں درجنوں معصوم فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں،جس سفاک انداز میں الجزیرہ، اے پی سمیت دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر کی عمارت کو مختصر نوٹس پر تباہ کیا گیا اس کی لائیو کوریج نے عالمی برادری کو دم بخود کردیا ہے، دنیا بھر کے صحافتی ادارے اس قابلِ مذمت فعل پر سراپا احتجاج ہیں۔ سرزمین فلسطین کا شمار دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں ہوتا ہے، لبنان اور مصر کے درمیان واقع یہ مقدس خطے دنیا کے تین مذاہب(اسلام، یہودیت اور کرسچینیٹی) کی نظر میں مقدس مانا جاتا ہے ، اسے بیت المقدس، یروشلم یا القدس شریف کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کے ناطے مذہبی عقیدت کا باعث ہے، یہاں سے پیغمبر اسلام ﷺ نے معراج شریف کا سفر کیا تھا،یہودیوں کا ماننا ہے کہ یہ علاقہ ماضی میںیہودیوں کا آبائی وطن رہا ہے اور دورِ قدیم میں یہودیوںکے پیغمبروں نے یہاں حکومت کی ہے، اسی طرح کرسچیئن مذہب کے ماننے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے یروشلم کو مقدس مانتے ہیں۔ مذہبی طور پر بیت المقدس پرزمانہ قبل مسیح میں اللہ کے نبیوں بشمول حضرت سیموئیل، حضرت داؤد، حضرت سلیمان کی حکومت قائم رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں دنیا کے اس مقدس ترین شہر نے سب سے زیادہ تباہیاں دیکھی ہیں،اس مقدس سرزمین پر اپنا قبضہ جمانے کیلئے ماضی میں بھی بہت خونی جنگیں ہوئی ہیں اور آج اکیسویں صدی میں بھی یہاں کے درودیوار خون سے لہولہان ہیں،تاریخ کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ یہاں آباد یہودیوں کو زمانہ قدیم میںپڑوسی حملہ آوروں نے یہاں سے نکال دیا تھا جس کی بنا پر وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں تتربتر ہوگئے تھے،یہ مقدس علاقہ اپنے زمانے کی سپرپاور سلطنت روم کے زیرقبضہ بھی رہا، بعد ازاں خلیفہ دوئم حضرت عمرؓکے دورِ حکومت میں مسلمانوں نے پرامن انداز میں بیت المقدس کا کنٹرول حاصل کرلیا، تاہم صلیبی جنگوں کے نتیجے میں بیت المقدس یورپی طاقتوں کے قبضے میں چلا گیااور یہ مقدس خطہ معصوم انسانوں کے خون میں نہا گیا،طویل جدوجہد کے بعد صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمانوںنے نوے سال بعدبیت المقدس کا کنٹرول حاصل کر لیا،اس موقع پر مقدس علاقے کا احترام یقینی بناتے ہوئے خون بہانے سے گریز کیا گیا۔ جدید تاریخ میں فلسطین پہلی جنگ عظیم اول کے آغاز تک ترکی میں قائم خلافتِ عثمانیہ کا حصہ تھاجسے جنگ عظیم میںتُرکوں کی شکست کے بعد1917 میںبرطانیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا، برطانوی سامراج نے مقبوضہ علاقے کو فلسطینی عوام کے حوالے کرنے کی بجائے بالفور اعلامیہ کے تحت یہودیوںسے اسرائیل کے نام سے ان کا قومی وطن سرزمین فلسطین میں قائم کرنے کا وعدہ کرلیا، دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے نازی جرمنی میں یہودیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو برطانیہ سمیت مغربی طاقتوں کی جانب سے یہودیوں کی فلسطین نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کی گئی، لیگ آف نیشن کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے خطہ فلسطین کو تقسیم کرکے فلسطین اور اسرائیل کے نام سے دوآزاد ریاستیں قائم کرنے کا اعلان کیا گیا،برطانیہ نے مقبوضہ علاقے سے 1948ء میں اپنی فوجی تسلط ختم کیا تو 14مئی1948کو اسرائیل معرض وجود میں آگیا، تاہم اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت فلسطین کی آزاد ریاست قائم نہ کی گئی بلکہ اسرائیل نے مغربی طاقتوں کی آشیرباد پر فلسطینی علاقوں پر قبضہ جمانا شروع کردیا ، پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ ہر عسکری تصادم کا نتیجہ اسرائیل کے رقبے میں اضافے کا باعث بنتا چلا گیااور اسرائیل اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر مشرقی بیت المقدس، غزہ کی پٹی،غرب اردن، صحرائے سینا، گولان کی پہاڑیاںسمیت دیگر عرب علاقوں پر قابض ہوگیا، آج فلسطینی علاقے کا رقبہ گھٹتے گھٹتے صرف مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پررہ گیا ہے جو زمینی طور پر آپس میں منسلک نہیں ۔اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جسکی تسلیم شدہ باقاعدہ سرحدیں نہیں ہیں، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ قراردادیں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف منظور کی گئی ہیں، آج بھی دنیا بھر کے امن پسند حلقے اسرائیلی مظالم کے خلاف سڑکوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں لیکن اسرائیل طاقت کے نشے میں کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کیلئے افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ ایک صدی سے فلسطین کا ایشو تاحال حل طلب ہے، مقبوضہ علاقے میں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، فلسطینیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کرکے دوسرے ممالک میں مشکل حالات سے دوچار ہے، عالمی برادری کی بے حسی نے فلسطینیوں کوحالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، بدقسمتی سے سرزمین فلسطین کو خون میں رنگے طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود پڑوسی عرب ممالک کی جانب سے کوئی قابل عمل حکمت عملی کا تعین نہیں ہوسکا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کی مقدس سرزمین میں آگ و خون کا سلسلہ ہمیشہ کیلئے روکنے کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنایا جائے،آج اگر اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اپنا کردارادا نہیں کیا تو اسرائیل فلسطین تنازع پر تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے ۔