Minus One, Two And Three

186

Minus One, Two And Three | Asar Chauhan latest column in Nawaiwaqt | 3rd September 2016

الطاف حسین ایم کیو ایم کے “One and Only” ( یگانہ، منفرد، اعلیٰ اور بے مثل لیڈر) رہے لیکن اب “Minus Altaf Hussain” کا نعرہ عام ہے۔ 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات کے بعد جناب الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم چوتھی بڑی پارٹی کہلائی۔ پاکستان میں ایک ”جمہوری حکومت“ ہے۔ فوجی آمریت ہوتی تو اُس کے لئے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا ”ٹنٹا “ختم کرنا آسان ہوتا۔ برطرف وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش میں بڑے ملزم کی حیثیت سے مقدمہ چلایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے اُنہیں پھانسی کی سزا سُنائی لیکن صدر جنرل ضیاءاُلحق نے اُن کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔
بھٹو صاحب کے پاس دوہری شہریت نہیں تھی۔ وہ پاکستان کی جیل میں تھے۔ اُنہیں پھانسی دے دی گئی لیکن صدر جنرل ضیاءاُلحق پاکستان پیپلز پارٹی کو “Minus Bhutto” پارٹی بنانے میں ناکام رہے۔ جلا وطنی کے بعد امریکہ کے آشیر باد اور مقتدر قوتوں سے مفاہمت کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو اپریل 1988ءمیں لاہور کے ہوائی اڈے پر اُتریں تو صدر جنرل ضیاءاُلحق نے ایوانِ صدر میں بیٹھ کر محترمہ کے استقبال میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہُوا سمندر ویڈیو پر دیکھا اور یہ نعرہ بھی سُنا کہ….
” ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو مارو گے!“
صدر جنرل ضیاءاُلحق کہا کرتے تھے کہ ۔ ”مَیں اللہ کے سِوا کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہُوں “۔ چنانچہ وہ 17 اگست 1988ءکو اللہ کے حضور چلے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو بار وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد قتل ہوگئیں۔ اُن کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف اور پھر صدر زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کا دور آیا۔ اگر الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں ”پاکستان مُردہ باد“ کا نعرہ نہ لگاتے اور یہی نعرہ اپنے دو اڑھائی سو کارکنوں سے نہ لگواتے تو مقتدر حلقوں ، محبِ وطن طبقوں اور بعض سیاستدانوں کو “Minus Altaf Hussain” کے فارمولاسے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور جناب فاروق ستّار اور الطاف حسین کے اُن ساتھیوں کے لئے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا جو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ”الطاف بھائی، الطاف بھائی“ کا وِرد کِیا کرتے تھے۔ جناب فاروق ستّار اور پاکستان میں اُن کی رابطہ کمیٹی کی مجبوری تھی کہ ” ایم کیو ایم کے آئین میں ترمیم کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی گئی“۔
آئین سے قائد الطاف حسین سے راہنمائی حاصل کرنے کی شِق نکال دی۔ پارٹی کا جھنڈا تبدیل کردِیا گیا ہے ۔ یہ اعلان بھی کِیا گیا ہے کہ ”آئندہ الطاف حسین کی سالگرہ نہیں منائی جائے گی“۔ یعنی اب ”جئے الطاف “ کے نعرے نہیں لگیں گے “۔ یہ بھی اعلان کِیا گیا کہ ”اب ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے کسی کو بھی پاکستان کے خلاف ”ہرزہ سرائی“ (لُغت کے مطابق بیہودہ بکواس) اور پاکستان مخالف نعرے لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ جناب فاروق ستّار نے وضاحت نہیں کی کہ ”جناب الطاف حسین اور اُن کے دو اڑھائی سو پیروکاروں نے پاکستان کے خلاف جو ”ہرزہ سرائی“ کی تھی اور پاکستان مخالف نعرے لگائے تھے اُنہیں یہ اجازت کِس نے دی تھی؟ کیا لندن میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے؟
جنرل ضیاءاُلحق نے اقتدار میں آ کر کہا تھا کہ ”آئین کیا ہے؟ چند صفحوں کی کتاب، جِسے مَیں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک سکتا ہُوں“۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”مَیں جب بھی اشارہ کروں گا، سیاستدان اپنی اپنی دُم ہلاتے ہُوئے میرے پاس دوڑے چلے آئیں گے “۔ جزوی طور پر یہی ہُوا اور جو سیاستدان ”دُم دار“ نہیں تھے ، وہ مصنوعی دُمیں لگوا کر ایوانِ اقتدار کے دروازے پر جا پہنچے۔ جناب الطاف حسین اور اُن کے سیاسی بھائی ایم کیو ایم کو ”اصول پرست سیاسی پارٹی“ قرار دیتے رہے ہیں۔ اب اُس کے آئین میں ترمیم کے بعد کیا ہوگا؟ ”شاعرِ سیاست“ نے کہا تھا کہ….
”آئین نو سے ڈر نہ
کوئی ایسا کام ، کر نہ
تُو جانتا نہیں ہے،
مَیں کیا کروں گا ورنہ؟“
کہا جاتا ہے کہ ”برطانیہ کا آئین “Un Writen” (غیر تحریری ) ہے۔ کیا جنابِ الطاف حسین ایم کیو ایم کا کوئی نیا آئین ضبطِ تحریر میں لائیں گے؟ ایک دَور تھا کہ ” فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب کنونشن مسلم لیگ کے مرکزی صدر تھے اور جنابِ ذوالفقار علی بھٹو سیکرٹری جنرل۔ جنابِ بھٹو نے اپنے صدر صاحب کو مشورہ دِیا تھا کہ ”آئین میں ترمیم کر کے پاکستان کے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ضلع کنونشن مسلم لیگ کا صدر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو سیکرٹری جنرل نامزد کردِیا جائے“۔ فیلڈ مارشل صاحب نہیں مانے لیکن جنابِ بھٹو جب تک حیات رہے تو وہ اوپر سے لے کر نیچے تک پارٹی کے تمام عہدوں پر اپنے وفاداروں کی نامزدگیاں ہی کرتے رہے۔ جیل جانے سے پہلے بھٹو صاحب نے اپنی اہلیہ¿ بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کی ”چیئر پرسن“ نامزد کر دِیا۔ پارٹی میں ”شریک چیئرپرسن“ کا کوئی عہدہ نہیں تھا لیکن بیگم بھٹو نے بے نظیر بھٹو کو شریک چیئرپرسن نامزد کر دِیا۔
دسمبر 1993ءمیں اپنی وزارتِ عظمی کے دوسرے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کا اجلاس طلب کر کے ( جِس کے سارے کے سارے ارکان نامزد تھے ) والدہ¿ محترمہ کو برطرف کر کے پارٹی کی چیئرپرسن شِپ خود سنبھال لی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں اپنے شوہر نامدار کو پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں دِیا لیکن اُن کے قتل کے بعد اُن کی ”برآمدہ وصِیت “ کے مطابق جنابِ آصف زرداری نے اپنے 16 سالہ بیٹے بلاول زرداری کو ”بھٹو“ کا خطاب دے کر پارٹی کا چیئرمین نامزد کر دِیا اور خود اُس کے ماتحت شریک چیئر پرسن منتخب ہو گئے۔ اِس وقت جنابِ بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں اور مخدوم امین فہیم کی یادگار پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (پی پی پی پی) کے چیئرمین آصف علی زرداری۔
دونوں پارٹیوں کے سربراہ ”جئے بھٹو“ اور ”بھٹو اِزم“ کے نعرے لگاتے ہیں۔ فی الحال دونوں پارٹیوں میں “Minus Bilawal” اور “Minus Zardari” کا کوئی نعرہ نہیں لگایا جا رہا۔ جنابِ زرداری ایک سال اور تین ماہ سے دُبئی میں ہیں۔ دونوں پارٹیوں کا آئین کیا ہے؟ اُس کی ایک ایک کاپی الیکشن کمِشن آف پاکستان کے پاس ضرور ہوگی۔ “Minus Altaf Hussain” کے بعد جنابِ فاروق ستّار کی قیادت میں ایم کیو ایم اور دوسری پارٹیوں میں “Minus One, Two And Three” کا نعرہ لگے گا یا نہیں؟ بھوکے، ننگے اور بے گھر عوام کو اِس سے کیا؟ فارسی میں اُلّو کو ”بوم“ کہتے ہیں۔ ایک شاعر تھے ۔ بُوم پانی پتی۔ اُن کا ایک شعر ہے….
” اِن حسینوں نے اُجاڑِیں بستِیاں
بُوم سالا مُفت میں بدنام ہے“
ایک اور شاعر نے کہا تھا کہ….
”اپنی بلا سے بُوم رہے یا ہُما بسے“
لیکن مَیں کیا کروں مَیں تو ”جمہوریت پسند“ ہُوں۔ کسی بھی پارٹی میں “Minus One, Two And Three” کا نعرہ لگے تو مَیں تو اُسے ”جمہوریت کا حُسن“ کیوں نہ سمجھوں؟