Moodi Ka Yaar Kaisey Jeet Gaya

65

Moodi Ka Yaar Kaisey Jeet Gaya | Wusatullah khan article in BBC URDU | 25th July 2016

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابی نتائج اگر بلاول بھٹو کی عینک سے دیکھے جائیں تو اور زیادہ حیران و پریشان کن دکھائی دیں گے۔ کیونکہ کشمیری بھلے کسی بھی سیاسی جماعت کے ہوں ان کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں ذوالفقار علی بھٹو کی کشمیر پالیسی کے لیے پچھلے 50 برس سے کوئی نہ کوئی نرم گوشہ ضرور پایا جاتا ہے اور کشمیری اب تک پیپلز پارٹی کو اسی نرماہٹ کا کم یا زیادہ سیاسی و انتخابی خراج دیتے آئے ہیں۔
لیکن تین روز پہلے کشمیریوں نے حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ جو سلوک کیا ویسا تو خضر نے سکندر سے اور پھر سکندر نے دارا سے بھی نہیں کیا۔ یقیناً پیپلز پارٹی کو اس زوالیہ عروج تک پہنچانے کے لیے موجودہ پارٹی قیادت نے سخت محنت کی ہے۔
دو ہزار تیرہ سے آج تک پاکستان ہو کہ گلگت بلتستان کہ کشمیر۔ پیپلز پارٹی کی انتخابی کارکردگی کا گراف ثابت قدمی سے نیچے کی جانب سفر کر رہا ہے۔ بھٹو اور بینظیر کا عوامی رجحان کی نبض پر مسلسل ہاتھ رہتا تھا مگر ان کے سیاسی پسماندگان کا ہاتھ صرف اپنی نبض پر ہی ہے۔ لوگ کیا سوچ رہے ہیں ان کی بلا سے۔
کشمیری انتخابات کپتان بلاول کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا مگر انھیں کوچ نے یہ نہیں بتایا کہ دو ہزار سولہ کی پچ پر انیس سو پچھتر کے بلے سے رنز نہیں بنتے۔ لوگ بلاول کے نانا اور والدہ کے احترام کا سود آخر کب تک دے سکتے ہیں۔ کچھ اپنا بھی تو اوریجنل کلام سنانے کے لیے ہو۔۔۔
کشمیر میں پینسٹھ فیصد پولنگ کے بعد کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ لوگوں نے جوش و خروش سے ووٹ نہیں ڈالے۔ کوئی سر پھٹول بھی نہیں ہوئی۔ انتخابی بے قاعدگیوں کی خاص شکایات بھی موصول نہیں ہوئیں۔ اگر کشمیر کی عدالتِ عظمیٰ کے ایک جج کو قومی شناختی کارڈ نہ دکھانے پر میرپور کے ایک پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ملی تو اس کا مطلب ہے کہ انتخابات خاصی حد تک شفاف بھی ہوئے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابی نتائج اگر بلاولی عینک سے دیکھے جائیں تو اور زیادہ حیران و پریشان کن دکھائی دے رہے ہیں۔

ووٹروں نے کشمیر کی مسلح جدوجہد اور آزادی کی حامی پیپلز پارٹی کے بجائے ’مودی کے یار‘ کو اکتالیس میں سے اکتیس سیٹیں ٹکا دیں۔ یقیناً بدترین دھاندلی ہوئی ہو گی مگر اس بار یہ دھاندلی اسمیبلشمنٹ نے نہیں ووٹر نے کی ہے۔
ووٹروں نے عمران خان کی شفاف و اصولی و نوجوان قیادت کا بھی پاس لحاظ نہ کیا اور نہ صرف تحریکِ انصاف کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کو دھتا بتا دیا بلکہ خان صاحب کے حساب کتاب سے پاناما لیکس کے آلودہ کرپٹ ترین اور نا اہل نواز شریف ٹولے کو کشمیر بھی پکڑا دیا۔ سونامی کو جانا کدھر تھا نکل کدھر گیا۔ خان صاحب کی ایک بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ دشمنی میں بھی خود کفیل ہیں۔
ممکن ہے کشمیری ووٹر کو نواز شریف کشمیری کی پالیسیاں اچھی لگ گئی ہوں مگر یہ بھی تو امکان ہے کہ گذشتہ دورِ حکومت ووٹر کے لیے اس قدر مایوس کن ہو کہ اس نے فیصلہ کیا کہ اس بار پچھلوں کو ووٹ نہیں دینا بھلے نواز شریف ہی کیوں نہ آ جائے۔
پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت نہ تو اپنی جیت کا تجزیہ کرتی ہے اور نہ ہی ہارنے کے اسباب کا۔ کیونکہ بولنا بہرحال پڑھنے لکھنے کے مقابلے میں کہیں آسان اور اتم ہے۔ چنانچہ جب بھی انتخابی نتائج آتے ہیں تو ہارنے اور جیتنے والوں کا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا ہے اور انشااللہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں بھی یہی ہوگا اور اس سے اگلی بار بھی۔۔۔