ے قراری میں سنا گیا ہے کہ عمران خان کو نہ تو اپوزیشن بننے دیا جائے گا اور نہ اسے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے دی جائے گی۔ یہ کوئی جمہوری بلکہ سیاسی رویہ ہی نہیں ہے۔ میں نواز شریف کا نقاد تو ہوں مگر ان کا مخالف نہیں ہوں۔ میں ہر سیاستدان پر تنقید کرتا ہوں اور اس کی تعریف بھی کرتا ہوں۔ میرے اللہ نے مجھے لالچ اور خوف سے بے نیاز کیا ہے۔ میں نے عمران خان کی سیاست پر بھی ہمیشہ تنقید کی ہے مگر اب کے میں سمجھتا ہوں کہ انہیں سیاست سے باہر کرنے کی کوشش خطرناک ہو گی۔
مجھے مریم نواز کی باتوں میں تحمل کی خوشبو محسوس ہوتی ہے عمران خان کے مقابلے میں نوجوانوں کو آگے لانے میں۔ نواز شریف کیپٹن صفدر اور حمزہ شہباز کی کارکردگی سے مطمئن نہ تھے جبکہ دونوں نے اپنی اپنی جگہ پر اپنا کردار ادا کیا۔ مریم نواز نے اس مہم میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔ رواداری اور وضعداری کی بھی ایک مثال قائم کی۔ یہ بہت ضروری ہے۔ مریم نے ہمیشہ کہا کہ بینظیر بھٹو میری آئیڈیل ہیں۔ آصفہ بھٹو نے نواز شریف کی کامیابی پر مبارکباد مریم نواز کو بھیجی ہو گی۔ میرے خیال میں نواز شریف کی خالی ہونے والی کسی سیٹ پر مریم نواز کو الیکشن لڑایا جائے تاکہ اسمبلی میں خواتین کے حوالے سے اچھا ماحول پیدا ہو۔ انہوں نے ن لیگ کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے لئے کہا ہے کہ وہ عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔
خوشامدیوں اور مفاد پرستوں نے ہمیشہ حکمرانوں کو مروایا ہے۔ ناکامی پر کہا جاتا کہ اسے اس نے مشیروں نے مروایا۔ حکمران کی نگاہ دلبرانہ میں حق شناسی ہونا چاہئے۔ نواز شریف کو عروج و زوال کے بڑے تجربے ہیں مگر یہ تجربہ کسی کے کام کیوں نہیں آتا اس سے پہلے بھی میں نے سیاستدانوں حکمرانوں کی مخالفت ان کی حمایت میں کی ہے۔ میں یہ باتیں عمران کے فائدے میں نہیں کر رہا اس میں نواز شریف کا فائدہ ہے۔ عمران تو مجھ سے ناراض رہتا ہے۔ ناراض تو مجھ سے نواز شریف بھی ہیں اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جائیں گے
مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ایم ایم اے بنوائی گئی جسے ملٹری ملا الائنس بھی کہا گیا تھا۔ مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد کا فائدہ صرف مولانا فضل الرحمن کو ہوا۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد بہت تنگ تھے۔ تنگ آمد بہ جنگ آمد بھی کئی بار ہوئے مگر مولانا باز نہ آئے۔ جنرل مشرف کی 17ویں آئینی ترمیم منظور کرا کے ان کی حکومت پکی کرائی۔ یہ نہ ہوتا تو جمہوری آمریت قائم نہ ہو سکتی تھی۔ آمریت ہی رہتی۔ ہمارے ملک میں آمریت بھی سچی نہ آئی نہ سچی جمہوریت آئی۔ جمہوری آمریت کے مقابلے میں آمرانہ جمہوریت نافذ ہوئی۔ پھر اٹھارویں ترمیم بھی ذوق و شوق سے منظور مولانا نے کروائی۔
مولانا کی اس آمر نوازی پر انہیں اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا جبکہ اکثریت بیچارے مخدوم امین فہیم کے ساتھ تھی۔ انہیں جنرل مشرف نے تعاون کرنے کے لئے کہہ دیا تھا۔ صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں حکومت کے لئے بھی منظوری دے دی گئی۔ ایم ایم اے کی جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کو کیا ملا؟ فرینڈلی اپوزیشن کی ابتدا ہوئی جسے انتہا پر چودھری نثار نے پہنچایا۔ مسلم لیگ ن کو پنجاب حکومت بھی ملی۔ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایک سہارا دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی حضرت مولانا بہت بڑے سیاستدان ہیں۔ پہلے نمبر ون تھے صدر زرداری کے بعد نمبر دو ہو گئے۔ نمبر دو کے کئی معانی ہیں۔ حضرت مولانا سب معانی پر پورا اترتے ہیں۔ نواز شریف نے لندن میں جو اے پی سی بلائی تھی اس میں بھی حضرت مولانا کی وجہ سے بینظیر بھٹو شریک نہ ہوئی تھیں۔ یہ سب باتیں نوازشریف کے علم میں ہیں۔
حضرت مولانا کے وزیراعلیٰ (سابق) اکرم درانی کہہ رہے ہیں کہ جے یو آئی ف کے علاوہ کوئی حکومت خیبر پختونخوا میں نہیں بن سکتی۔ یہ کم از کم چار جماعتوں کی اتحادی حکومت ہو گی۔ حکومت بنے نہ بنے مگر انتشار تو پھیلے گا۔ پہلے بھی مولانا فضل الرحمن نے اکرم درانی کو کچھ کرنے نہ دیا تھا۔ اب کیا کرنے دیں گے۔ مولانا کا یہ جملہ سنیں۔ ہمارے بغیر حکومت بن تو سکتی ہے ہمارے بغیر حکومت چل نہیں سکتی۔ اس سے یہ بھی ایک بات نکلتی ہے کہ صدر زرداری نے پانچ سال پورے کئے کیا نوازشریف بھی کر لیں گے۔ ان کی حکومت کے لئے بننے سے پہلے ہی باتیں شروع کر دی گئی ہیں۔ نوازشریف کے ساتھ اپنے رابطوں کی بات حضرت مولانا اپنی بڑی سیاسی چال کے طور پر کر رہے ہیں۔ خدا کے لئے نوازشریف ان کی چالوں میں نہ آئیں۔
ایک بات ہمارے دوست قیصر شریف نے کی ہے وہ نوازشریف کے رشتہ دار نہیں ہیں۔ ان کے والد کا نام بھی محمد شریف ہو گا۔ شریف فیملی کے لئے جو کچھ کیا وہ ایک دانا اور گہرے آدمی میاں محمد شریف نے کیا۔ اپنے بچوں کے لئے حکومت بھی ان کی حکمت اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ قیصر شریف بہت سچائی اور گہرائی سے سوچنے والے آدمی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس جملے میں جامعیت کے ساتھ پوری کہانی بیان کر دی ہے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت ڈیزل سے نہیں چلے گی پٹرول سے چلے گی۔ قیصر کا اشارہ یہ بھی ہے کہ کوئی اسے گیس (سی این جی) پر چلانے کی کوشش نہ کرے۔
خیبر پختونخوا میں مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا تو بڑی پریشانی بداعتمادی پیدا ہو گی۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان ہو گا تو اپوزیشن بہت جینوئن ہو گی۔ نوازشریف چودھری نثار کی بجائے جاوید ہاشمی کو اپوزیشن لیڈر بناتے تو انہیں بہت سی پریشانیوں سے نجات مل جاتی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کریں گے کہ سیاسی طور پر بے قراری اور بے اعتمادی پیدا ہو۔
صدر زرداری کی اتحادی حکومت کی ایسی مثال پیش ہے جو بے مثال ہے۔ وہ سندھ میں حکومت بنا سکتے تھے مگر ایم کیو ایم کو ساتھ ملایا اور اس کے نخرے بھی اٹھائے۔ اس وقت دھاندلی کے خلاف جو بے چینی ماحول میں موجود ہے اس میں بھی کمی آئے گی۔ وزیراعظم بننے سے پہلے نوازشریف وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے ابھی سے من موہن سنگھ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دے دی ہے۔ تو اپوزیشن لیڈر کے لئے عمران خان کا اعلان کیوں نہیں کیا جا سکتا اتحادی حکومت تو ہوتی ہے۔ اتحادی اپوزیشن کیوں نہیں بنتی تھی۔ یہ کارنامہ بھی مولانا فضل الرحمن کے کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ میں جائے گا۔
یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ابھی ابھی کی موصولہ خبر کے مطابق شریف برادران نے خیبر پی کے میں عمران خاں کے مینڈیٹ کو تسلیم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ عمران خاں کو خیبر پی کے میں حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہئے۔ شریف برادران اپنے اس جذبے کو عملی قالب میں ڈھالیں۔