View RSS Feed

Fawad Afzal

#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain

پرانے وقتو ں میں وقت گزرانے کے لئے قصے کہانیاں گھڑنا عام سی بات تھی، دیو مالائی داستانیں،طلسم وجادوکے کمالات،بھوت اور آسیب کے ہوشرُبا واقعات اور ناقابلِ فراموش بلکہ ناقابلِ یقین حادثاتپھر زمانے نے کروٹ لی، دور بدلا، نئی ترجیحات نے سر اُبھارا، روایات اور حقیقت میں توازن پیدا ہوا، تحقیق کے پیمانے مزید شفاف ہوئے اور اُس میں ارتقا کے خوش نما رنگ ظاہر ہونے لگےمگر قصہ گو پرانی روش پر ہی چلتے رہے،اُن کے رہن سہن میں ضرور تبدیلی ہوئی، اندازِ گفتگو یقیناً جدید ہوا اور بلاشبہ مثالوں کی جگہ حوالوں نے لی البتہ دروغ اور مبالغے کی آمیزش کے بغیر قصہ گو، گو آج بھی داستانیں سنانے سے قاصر ہیں یا یوں کہئے کہ سامعین کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر داستانی پکوان پر کذب کی بگھار اُن کے نزدیک گویا ایک لازمی امر ہے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اِن پُرانے اور نئے قصہ خوانوں میں ایک قدر حیرت انگیز طور پر مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ سچائی سامنے آنے کے باوجود نہ کل شرمندہ ہوتے تھے اور نہ ہی آج منہ چھپانے کو تیار ہیںجو کہہ دیا بس کہہ دیا کے مصداق اپنی روایتوں پر جمے رہنا اِنہیں بھلا لگتا ہے، چاہے دنیا کچھ بھی کہے، کہتی رہے ،کوئی فرق نہیں پڑتا اگر حقیقت کچھ اور ہو، ان کے نزدیک تو جناب نے جو فرما دیا بس اُسی کو مان لیا جائے کیونکہ یہی حادثہ ،یہی واقعہ اور یہی منظر ہیں۔
میں نے یہ تمام باتیں اِس وجہ سے لکھیں کہ ہمارے درمیان بھی ایک ماہر داستان گو سانسیں لے رہا ہے ،5برسوں تلک اُس نے قصے سُنا سُنا کر ہمارے دماغ کے حصے بخرے کئے اور اب انتہائی تازہ روداد کے ساتھ حضرت مارکیٹ میں دوبارہ وارِد ہوئے ہیںظاہر ہے کہ اِس وقت برصغیر میں کوئی ایسا نفس حیات نہیں جو ہمیں مُلّا دو پیازہ اور بیربل کاحلیہ بتاسکے یا کم از کم اِتنا ہی بیان کردے کہ تاریخ کے یہ مشہور کردارجلال الدین اکبر کو خوش کیسے رکھا کرتے تھےمُلّا دو پیازہ کا اصل نام تو ابوالحسن بن ابوالمحاسن بن ابومکارم تھا مگر دو پیازہ پلاؤ سے رغبت کی بنا پر اِنہیں مُلّا دو پیازہ کہا جاتا تھا، اِسی طرح لالہ بیربل(یا راجا بیربر) کا اصل نام مہیش داس تھا اور مہابَلی نے اُنہیں بیربل یا بیربر کے خطاب سے نوازا تھاگو کہ دونوں کے تعلقات آپس میں اچھے نہیں تھے اور اِن کے درمیان نوک جھونک جاری رہتی تھی لیکن جب بھی بادشاہ سلامت کو خوش کرنے کا موقع آتا تھا تو یہ اپنے اختلافات بھلا کر خوش گفتاریوں کے ایسے پھول کھلاتے کہ دربارِ اکبری شگوفوں سے مہک جاتادوپیازہ کی خاصیت مشاہدات کو ظرافت میں تبدیل کر کے بارگاہِ اکبری میں پیش کرنا تھی تو لالہ بیربل کا امتیاز واقعات گھڑ کے اکبری ہونٹوں پر مسکان کامسلسل قیام تھادوپیازہ تو 60برس کو پہنچ کر ایسے بیمار پڑے کہ پھر جانبر نہ ہوسکے ،وہ احمد نگر کے محاصرے کے دوران شہنشاہ کے ساتھ تھے اور ایک ماہ تک علالت میں رہنے کے بعد قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے لیکن لالہ بیربل سوات اور باجوڑ (پشاور)کی مہم کے دوران مارے گئے اور کافی تلاش کے باوجود اُن کی نعش نہیں مل سکی، اُن کی اِس ناگہانی ہلاکت پر اکبر نے کئی دنوں تک گوشہ نشینی اختیار کئے رکھی اور دربار تک نہ لگایا۔
آج نہ دوپیازہ ہیں اور نہ بیربل البتہ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے جدید دو پیازوں اور نئے بیربلوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوشاہانِ وقت کو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہےویسےجمہوری بادشاہ بھی اب زیادہ فکر نہیں کرتے اور اپنا دور آتے ہی پسند کے دوپیازہ اور بیربل چُن لیتےہیں، پھر وہ دھماچوکڑی مچتی ہے کہ اللہ کی پناہ!ایسے ہی ایک بیربل گزشتہ پانچ برسوں تک پابندی سے چٹکلے چھوڑتے رہے اور چونکہ داستانیں سنانے میں اُنہیں کمال مہارت حاصل ہے اِسی لئے چپ رہنا بھی محال ہے جیسے تیسے کر کے 6ماہ تو اُنہوں نے نیم خاموشی سے بِتا لئے لیکن اب یہ بتائے بنا اُنہیں چین بھی نہیں آتا کہ ارے دیوانو! مجھے پہچانومیں ہوں بیربل، میں ہوں دو پیازہقصے تراشنے اور جھوٹ بولنے کے فن میں اِن کا کوئی ثانی نہیں،قوم نے گزرے برسوں کے دوران اُن کے ایسے ایسے دعوے وقت کے پانی سے نگلے ہیں جو اگر وقت نہ گزرتا تو حلق میں اٹکے ہی رہ جاتےوہ جس دن ارشاد فرماتے تھے کہ کل سے ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوگی، دوسرے ہی دن نعشوں کے انبار لگ جاتے تھے، صرف کراچی میں کم از کم41 بار اُنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اب کراچی مجرموں سے پاک ہے اور ابھی اُن کی بات پوری بھی نہیں ہوپاتی تھی کہ چینلز کی سرخ پٹیاں موصوف کی بھڑکوں اور کارکردگی کو بے نقاب کرتی نظر آتی تھیں مگر وہ ایئرپورٹ پر ایسی باتیں کہہ کہ اسلام آباد کے لئے پرواز کرچکے ہوتے تھے اور جب وہاں اُترتے تھے تو کراچی میں کیا ہوا؟ اُسے ضعفِ یاداشت کابہانہ بنا کر اسلام آباد میں کچھ نئے انکشافات کر ڈالتے تھے۔
آئیے آپ کو اُن کا ایک تازہ لطیفہ سناؤں جو اُنہوں نے ہمارے بہت ہی پیارے اور سینئر صحافی جناب حافظ طاہر خلیل کو انتہائی سنجیدگی سے سنایا ہے مجھے نہیں معلوم کہ حافظ صاحب کا قلم لکھتے ہوئے ہنسا یا نہیں مگر میں پڑھ کر لوٹ پوٹ ضرور ہواتاریخ کے مشہورلالہ بیربل (معتمدِ خاص بادشاہ اکبر) اور آج کے رحمٰن ملک(درست عبدالرحمن ملک ہے) فرماتے ہیں کہ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی میری تجویز پر ہوئی(یہاں میرے پیٹ میں پہلا بَل پڑا) اُس کے بعد حضرت نے مزید ارشاد فرماتے ہوئے پورا واقعہ بیان فرمایا جس میں پرانے قصہ خوانوں کی نئی جھلک بآسانی دیکھی جاسکتی ہے فرماتے ہیں کہ 22مارچ2009ء کو چھٹی(اتوار) کا دن تھا اور میاں صاحب کا لانگ مارچ بھی ہورہا تھا، رات 10بجے میں وزیراعظم گیلانی کے پاس پہنچا۔
اور اُنہیں تجویز کیا کہ افتخار چوہدری صاحب کو بحال کر دیا جائے اِس تجویز پر اُن کے بقول ڈیڑھ گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہی اور بالآخر وزیراعظم صاحب نے میری تجویز سے اُصولی اتفاق کرلیا(یہ وہ منزل تھی جہاں اخبار میرے ہاتھ سے چھوٹ گیامیں نے ہمت کر کے اخبار دوبارہ اُٹھایا اور اِس یقین کے ساتھ آگے پڑھنے لگا کہ شاید اگلی سطروں میں وہ کہہ دیں کہ حافظ صاحب! میں نے اچھا لطیفہ سنایا نا!)بہرکیف عبدالرحمٰن ملک صاحب مزید فرماتے ہیں کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی میٹنگ ختم ہوتے ہی میں سیدھا ایوانِ صدر پہنچا، اُس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے(داستان گو کو کوئی ہلکا نہ سمجھے،ہر موڑCalculatedہے) میں نے صدر کے سامنے اپنی اور وزیراعظم کی میٹنگ کی تفصیلات اور جسٹس افتخار صاحب کی بحالی کی تجویز سامنے رکھی اور یہ بات دہرائی(جلدی سے سب پیٹ پر ہاتھ رکھ لیں بہت ہنسی آنے والی ہے) کہ اُنہیں بعد میں تو بحال کرنا ہی ہے، ابھی کردیںمیری گفتگو کے بعد صدر صاحب نے وزیراعظم صاحب سے بات کی (شاید یہ سن کر صدر صاحب کو یقین نہیں آیا اور اُنہوں نے تصدیق کے لئے گیلانی صاحب کو فون ملایا) وزیر اعظم صاحب نے فرمایا رحمٰن بابا ٹھیک کہتے ہیں، یہ کام آج اور ابھی کر لیں تو بہتر ہوگا۔ (پلیز کچھ دیر کے لئے ہنسی روک لیں کیونکہ اگلی سطور میں قہقہوں کا باندھ ٹوٹنے والا ہے)عبدالرحمن ملک کہتے ہیں کہ اِس کے بعد میں نے صدر اور وزیراعظم سے کہا کہ آرمی چیف کو بھی اعتماد میں لے لیں تاکہ ہر کام یکسوئی کے ساتھ مکمل ہوسکے (بس کردو بابا بس کردو!) اور پھر صدر نے آرمی چیف کو بلوایا وہ رات سوا بارہ بجے ایوانِ صدر پہنچے، صدر نے اُنہیں میری تجویز سے آگاہ کیا اور وہ متفق ہوگئے(اے بابا! تم اِتنے عرصے تک خاموش کیوں رہے ،بابا بولو نا، بابا جواب دو، بابا!بابا!بابا!) صدر نے آرمی چیف سے کہا کہ آپ خود فون کر کے اعتزاز احسن کو افتخار چوہدری کی بحالی کے فیصلے سے آگاہ کردیںباباکہتے ہیں کہمیں اُس وقت بھی وہاں موجود تھا جب آرمی چیف نے اعتزاز احسن کو فون پر بحالی کے فیصلے کی اطلاع دی (بابا شکریہ کہ آپ نے کہانی میں صرف اِس ایک حقیقت کا خیال رکھا ورنہ ہم آپ کاکیا کرلیتے اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ اور پھر اِس کے بعد میں نے چیف جسٹس
کو بحال کردیا!!!(ہا ہا ہا بابا خوش رہو!)
ہر دلعزیز میزبان اور مذہبی ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اچھے اچھے پیغامات مفت میں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے ابھی ایس ایم ایس کیجئے
F @AamirLiaquat and SEND to 40404
Official website of Dr Aamir Liaquat Husain: www.aamirliaquat.com







Submit "#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain" to Digg Submit "#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain" to del.icio.us Submit "#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain" to StumbleUpon Submit "#JangColumn: "Chal Jhoota...!" #LoudSpeaker By @AamirLiaquat Husain" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments