Chal Raiwind Chaliye

241

Chal Raiwind Chaliye | Asar Chauhan latest column in Nawaiwaqt | 6th September 2016

3 ستمبرکو تین سیاسی لیڈروں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد اور پاکستان عوامی تحریک کے علاّمہ طاہر اُلقادری کی ’’تحریکِ احتساب ’’تحریکِ نجات‘‘ اور ’’ تحریکِ قصاص‘‘ کی الگ الگ ریلی تھی۔ 11 مئی کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف ووٹوں کے لحاظ سے دوسری بڑی پارٹی تھی۔ عوامی مسلم لیگ کے صِرف اُس کے صدر شیخ رشید احمد ہی منتخب ہُوئے اور علاّمہ القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے تو انتخابات کا بائیکاٹ کردِیا تھا۔ علاّمہ صاحب کبھی کبھی غریبوں کے حق میں اِنقلاب لانے کے لئے پاکستان کے دورے پر آتے ہیں لیکن ’’اِنقلاب‘‘ کسی دوسرے ملک میں چلا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی میں تحریکِ انصاف کی 34 نشستیں ہیں لیکن نیوز چینلوں پر شیخ رشید احمد کی گھن گرج زیادہ سُنائی دیتی ہے۔ شیخ صاحب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’مَیں شیخ ہُوں اور کوئی شیخ کبھی خسارے کا کام نہیں کرتا ‘‘ ۔ علاّمہ طاہر اُلقادری نے ’’شیخ اُلاسلام ‘‘ لقب اختیار کر رکھا ہے۔ اُنہوں نے بھی ابھی تک خسارے کا کوئی کام نہیں کِیا ۔ 3 ستمبر کو ’’پنڈی وال شیخ‘‘ اور ’’شیخ اُلاسلام‘‘ اپنی اپنی ریلی کے حساب سے ایک ہی “Page” اور ایک ہی “Level” پر تھے۔ ’’شیخ اُلاسلام‘‘ کو راولپنڈی آ کر ’’پنڈی والوں‘‘ کو بتانا پڑا کہ ’’جنرل راحیل شریف اپنی ریٹائرمنٹ (29 نومبر 2016ئ) سے پہلے سانحہ ماڈل ٹائون کے ’’شہیدوں‘‘ کے وارثوں کو انصاف دِلوائیں‘‘۔ حالانکہ ’’شیخ اُلاسلام‘‘ یہ مطالبہ سانحہ ماڈل ٹائون کے ’’شہیدوں‘‘ کے وارثوں کو گواہ بنا کر لاہور میں بھی کر سکتے تھے۔
القادری صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میرے پاس تحریکِ قصاص کے دوسرے رائونڈ میں دونوں آپشن موجود ہیں کہ مَیں اپنے عقیدت مندوں کو اسلام آباد کی طرف لے جائوں یا رائے ونڈ کی طرف؟ ’’یہ اختیار میری مٹھی میں بند ہے لیکن جب مَیں چاہوں گا یہ مٹھی کھول دوں گا‘‘۔ شاعر نے کہا تھا کہ…؎
’’ کُھل گئی ہے جیسے مُٹھی، پنجۂ خُورشید کی
اِس قدر پُر نُور ہیں اُس فتنہ گر کی اُنگلیاں‘‘
مَیں نے علاّمہ القادری کی ’’پُرنُور اُنگلیوں‘‘ کو دور سے دیکھا۔ وہ ’’فتنہ گر‘‘ یا نہیں؟ کینیڈا والوں کو نہیں پتہ؟ عمران خان نے اپنی لاہور کی ریلی میں وزیراعظم نواز شریف سے صِرف چار سوال پوچھے اور کہا ’’اگر آپ نے میرے اُن چار سوالوں کے جوابات نہ دئیے تو ’’ہم بھی تحریکِ احتساب کی ریلی لے کر عید کے بعد رائے ونڈ جائیں گے‘‘۔ سوالات یہ ہیں کہ ’’وزیراعظم صاحب نے لندن میں فلیٹس کیسے خریدے؟ اُن کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟ ملک کا پیسہ باہر کیسے گیا؟ اور آپ نے قومی خزانے میں کِتنا ٹیکس جمع کرایا؟‘‘۔
عمران خان کی ’’عید کے بعد‘‘ سے کیا مُراد ہے؟ کیا نمازِ عید کے فوراً بعد؟ یا جب جنابِ وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے لوگ غریبوں میں قربانی کے جانوروں کا گوشت تقسیم کرنے سے فارغ ہو جائیں گے تو؟ مَیں نے مختلف نیوز چینلوں پر شیخ رشید احمد کی تقریر بھی سُنی۔ اُنہوں نے رائے ونڈ جانے کے لئے اپنی بند مٹھی کھولنے کی بات نہیں کی۔ البتہ وزیراعظم صاحب کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا کہ ’’آپ غروب ہونے والے ہیں؟ لیکن مَیں طلوع ہونے والا ہُوں‘‘۔ صورت یہ ہے کہ مَیں تو پہلے ہی شیخ صاحب کا فین ہوں اور ایک بار مَیں نے یہ بھی سوچا تھا کہ کیوں نہ مَیں اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت اُن کی عوامی مسلم لیگ میں شامل ہو جائوں‘‘۔ لیکن اکثر میرے خوابوں میں آنے والے (طاہرالُقادری کے لڑکپن کے جھنگوی دوست) بابا ٹلّ نے مجھے منع کر دِیا۔ نہ جانے اُن کو شیخ صاحب سے کیا عداوت ہے؟ اِس کے باوجود میری درخواست پر ’’شاعرِ سیاست‘‘ نے میری کمزوری اور شیخ صاحب کی ’’ شہ زوری‘‘ کا خیال رکھتے ہُوئے کہا کہ …؎
’’چیلا نہ کوئی چیلی، ساڈا اللہ بیلی
دھیلا نہ کوئی دھیلی، ساڈا اللہ بیلی
تُوں کڈّھ وکھری ریلی، ساڈا اللہ بیلی
میلا لُٹ، یاں میلی، ساڈا اللہ بیلی
لیلا کوہ یاں لیلی، ساڈا اللہ بیلی
تیری لال حویلی، ساڈا اللہ بیلی‘‘
رائے ونڈ جانے کی کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ 25 دسمبر 2015ء کو تو جنابِ وزیراعظم کی سالگرہ اور اُن کی نواسی (مریم نواز کی بیٹی) مہر اُلنساء کی شادی/ رُخصتی پر بھارتی وزیراعظم شری نریندر مودی بھی اپنے لائو لشکر سمیت بحیثیت مہمان ’’پدھارے‘‘ ( تشریف لائے) تھے۔ جنابِ وزیراعظم نے اُنہیں اتنی عزت دی تھی کہ اُس ’’ تقریبِ سعید‘‘ میں مُشیرِ خارجہ جناب سرتاج عزیز، اوراپنے اتحادی چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل اُلرحمن سے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ ’’یہ ہمارا “Family Function” ہے ‘‘۔ بہرحال مجھے پنجاب کے دبنگ وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ خان کی ادا بہت پسند آئی جب اُنہوں نے کہا کہ ’’اگر عمران خان اور طاہراُلقادری مہمان کی حیثیت سے رائے ونڈ آئیں تو اُن کے لئے چائے پانی، ناشتے اور کھانے کا بندوبست ضرور کِیا جائے گا لیکن ہم اُنہیں حکومت کا تختہ اُلٹنے کی اجازت نہیں دیں گے؟‘‘۔
بھولے رانا جی اِس طرح کی اجازت کون مانگتا ہے؟ رانا صاحب نے شیخ رشید احمد کو بطور مہمان رائے ونڈ آنے کے لئے مدّعو نہیں کِیا ۔ شاید اِس لئے کہ ’’شیخ صاحب کی مونچھوں کا سٹائل اب رانا ثناء اللہ خان کی مونچھوں کا سا ہوگیا ہے؟ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے علاّمہ طاہراُلقادری کو ’’ننگِ دیں اور ننگِ وطن‘‘ قرار دے کر کہا کہ ’’مَیں ذاتی طور پر اُن پر مقدمہ کروں گا اور اُنہوں نے وزیراعظم صاحب پر جو الزامات لگائے ہیں مَیں اُنہیں عدالت میں جھوٹا ثابت کردوں گا ‘‘۔ پرویز رشید صاحب کا یہ حق اور ڈیوٹی ہے۔ اُدھر ترجمان عوامی تحریک نے کہا ہے کہ ’’پرویز رشید ذاتی طور پر نہیں بلکہ وزیر کے طور پر عدالت میں جائیں، وہاں غدّاری کے مزید مقدمات اُن کا استقبال کریں گے‘‘۔ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ ’’کسی نے رائے ونڈ جانے کی کوشش کی تو ہم اُس کی اِینٹ سے اِینٹ بجا دیں گے ‘‘۔ ہم اپنے قائدین کے گھروں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں‘‘۔ مرزا غالبؔ نے اپنے محبوب سے کہا تھا کہ…؎
’’قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے، تو عداوت ہی سہی‘‘
حکمتِ عملی حوصلے اور وسائل کی بات ہے۔ اگر کوئی سیاسی لیڈر اپنے عقیدت مندوں کو اکٹھا کر کے ریلی کی شکل میں کسی مخالف کے گھر پر حملہ کرنے کے لئے لے جائے تو اُسے بھی ’’جمہوریت کا حُسن‘‘ کہتے ہیں۔ اگرچہ مَیں نے کبھی جمہوریت کے اِس طرح کے حُسن کا مظاہرہ نہیں کِیا لیکن ’’شاعرِ سیاست‘‘ نے اپنے محبوب/ شوہر کو رائے وِنڈ جانے کے لئے انگیخت کرنے والی پنجاب کی کسی خاتون کے جذبات کو یوں بیان کِیا ہے کہ…؎
’’روٹی، کپڑا ، ناں کوئی گھر وے ، چلّ رائے وِنڈ چلِّیئے
مَینوں رول ناں تُوں، دَر دَر وے، چلّ رائے وِنڈ چلِّیئے
ناں پولیس کولوں ایویں ڈروے، چلّ رائے وِنڈ چلِّیئے
ماہِیا غیرت کھا، کُجھ کر وے، چلّ رائے وِنڈ چلِّیئے‘‘