Baba Tul Ka Eid Cake | Asar Chauhan

211

Baba Tul Ka Eid Cake | Asar Chauhan | Asar Chauhan latest column in Nawaiwaqt | 17th September 2016

عید قربان کے دوسرے دِن 14 ستمبر کو مَیں اپنے ایک دیرینہ اور خوشحال دوست کے گھر عشائیہ پر مدّعو تھا۔ وہاں میرے کچھ ناپسندیدہ اصحاب بھی موجود تھے۔ رسماً وہ بھی باری باری مجھ سے گلے مِلے۔ مجھے محسوس ہُوا کہ وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ…؎
’’عِید کا دِن ہے، گلے آج تو مِل لے ظالم
رسمِ دُنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے‘‘
میرا تعلق ظالم طبقے سے نہیں ہے لیکن اگر کوئی مجھے ظالم سمجھ لے تو مَیں کیا کرسکتا ہُوں؟ گھر واپس آ کر مَیں جلد سو گیا۔ مَیں نے خواب میں اپنے ڈرائنگ روم میں اپنے مخصوص سِنگل صوفے پر بیٹھے بابا ٹلّ کو دیکھا۔ اُنہوں نے مجھ سے گلے مِلنے کی کوشش کی جو مَیں نے ناکام بنا دی۔ میرے سامنے پڑی میز پر بہت ہی نفاست سے پیک کئے گئے دو کیک پڑے تھے۔ ایک چھوٹا اور ایک اُس سے چار گُنا بڑا۔ پھر بغیر تمہید بابا ٹلّ بولے۔ ’’اثر چوہان صاحب! یہ چھوٹا کیک آپ کیلئے اور بڑا عزیزم بلاول بھٹو زرداری کیلئے لایا ہُوں۔ مہربانی سے آپ یہ کیک اُنہیں پہنچا دیں!‘‘
مَیں۔ بابا ٹل جی! میرا تو بلاول بھٹو زرداری سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر مَیں آپ کی طرف سے اُنہیں آپ کا کیک کیوں پہنچائوں؟
بابا ٹلّ۔ ’’دراصل یہ عید کیک نہیں۔ ’’جمہوریت کیک‘‘ ہے۔ آپ کے علم میں ہے کہ کل 15 ستمبر کو دُنیا کے مختلف ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ’’یومِ جمہوریت‘‘ منایا جا رہا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جنابِ زرداری نے صدر پاکستان کی حیثیت سے اپنی خوش دامن بیگم نصرت بھٹو کو ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کا خطاب دِیا تھا‘‘۔
مَیں۔ جی ہاں یہ خطاب تو دِیا تھا لیکن اِس میں میرا کیا قصور؟
بابا ٹلّ۔ ’’آپ کا تو قصور نہیں ہے لیکن میری خواہش ہے کہ بلاول بھٹو زرداری، عالمی برادری پر اقوامِ متحدہ یا کم از کم یورپی یونین کے ذریعے دبائو ڈالیں کہ آئندہ 15 ستمبر کو پوری دُنیا میں ’’ یومِ جمہوریت‘‘ کے بجائے ’’یومِ مادرِ جمہوریت‘‘ منایا جائے!‘‘۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
مَیں۔ بابا ٹل ّجی! مَیں تو ’’نانی اپنی اپنی‘‘ کے اصول کا قائل ہُوں۔ مَیں اپنی نانی اماّں کی برسی پر قرآن خوانی کا اہتمام کرتا ہُوں۔ بلاول صاحب بھی ایسا ہی کرلِیا کریں اور 15 ستمبر کو ’’یومِ مادرِ جمہوریت‘‘ بھی منا لِیا کریں! خوامخواہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ذریعے عالمی برادری کو زحمت دینے کی کیا ضرورت ہے؟
بابا ٹلّ۔ ’’مجھے آپ کی اِس دلیل سے بہت دُکھ ہُوا ہے اثر چوہان صاحب! بلاول بھٹو کے نانا جی ذوالفقار علی بھٹو، والدہ صاحبہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدرِ پاکستان کی حیثیت سے والد صاحب جناب آصف زرداری بھی بہت بڑے لیڈر تھے/ ہیں۔ جب جھنگ کے ایک مولوی کی حیثیت سے ترقی کر کے ’’شیخ اُلاسلام‘‘ کا لقب اختیار کرنیوالے میرے لڑکپن کے دوست علاّمہ طاہر اُلقادری وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ن لیگ کے کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء سے سانحہ ماڈل ٹائون کے ’’شہیدوں‘‘ کا قصاص لینے کیلئے یورپی یونین، انسانی حقوق کمِشن اور اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کر سکتے ہیں تو بلاول بھٹو زرداری تو پاکستان کے تسلیم شدہ لیڈر ہیں!‘‘
مَیں۔ بابا ٹلّ جی! کیا پاکستان عوامی تحریک کے صدر کی حیثیت سے علاّمہ طاہر اُلقادری الیکشن کمِشن آف پاکستان سے تسلیم شدہ لیڈر نہیں ہیں؟
بابا ٹلّ۔ ’’دراصل علاّمہ طاہر اُلقادری اور پاکستان عوامی تحریک کا کوئی بھی عہدیدار اور کارکن، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی، یا کسی موری ممبر کا بھی رکن نہیں ہے۔ مَیں نے تو طاہر اُلقادری کو مشورہ دِیا تھا کہ وہ 11 مئی 2013ء کے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کریں لیکن اُن کے سر پر تو انقلاب کا بُھوت سوار تھا‘‘۔
مَیں۔ بابا ٹلّ جی! آپ تو القادری صاحب کے لڑکپن کے دوست ہیں ۔ جوانی کے کچھ دِن بھی آپ نے اُن کیساتھ گزارے۔ آپ نے کوشش کیوں نہیں کی کہ انقلاب کا بھوت اُن کے سر پر سوار نہ ہو سکے یا اب اُتر جائے؟
بابا ٹلّ۔ ’’دراصل انقلاب کا بُھوت مجھ سے اور القادری سے زیادہ طاقتور تھا/ ہے۔ القادری ملکہ الزبتھ دوم سے وفاداری کا حلف اُٹھا کر کینیڈین شہری بن چکے ہیں۔ جب کینیڈا میں ہوتے ہیں اور اُن 89 ملکوں میں جہاں اُن کا کاروبار ہے، تو انقلاب کا بُھوت اُن کے سر سے اُتر کر کرکٹ کھیلنے لگتا ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی اپنے اِس دوست پر بہت ترس آتا ہے اور مَیں اُس کے سر پر سوار انقلاب کے بھوت کو دُھتکارتے ہُوئے یہ بھی کہہ چکا ہُوں کہ ’’جا تیرے گھر اپنا پیئو تے بھائی تے ماں بھین کوئی نئیں؟‘‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھوت بہت ہی ڈھیٹ ہے! وہ شرافت کا قائل نہیں تو میرے دوست کے سر سے کیسے اُترے!‘‘
مَیں۔ بابا ٹلّ جی! آپ اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے ہیں۔ شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ میں شامل ہو جاتے تو کیا مضائقہ تھا؟
بابا ٹلّ۔ ’’شیخ صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ٹِک کر لال حویلی میںنہیں بیٹھتے۔ ہر دِن اور رات کو بھی بِیس بِیس اور تِیس تِیس نیوز چینلوں پر تقریریں کرتے ہیں۔ کسی اینکر پرسن کو بولنے نہیں دیتے۔ البتہ مجھے شیخ صاحب کی یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تیز رفتاری سے بولنے کے باوجود طاہر اُلقادری کی طرح اپنے مُنہ سے تھوک یا جھاگ نکال کر اِدھر اُدھر نہیں اچھالتے!‘‘
مَیں۔ اور عمران خان؟ اُن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
بابا ٹلّ۔ ’’مَیں عمران خان کا بھی بہت بڑا فین ہُوں۔ آپ نے کسی پنجابی فلم میں سُرخ رنگ کی پگڑی باندھے اپنے محبوب سے مخاطب پنجاب کی کسی الہڑ مٹیار کو یہ گاتے ضرور سُنا ہوگا کہ…؎
’’سُوہے وے چِیرے وَالیا، مَیں کہنی آں
کر چھتری دی چھاں، مَیں چھانویں بہنی آں!‘‘
اثر چوہان صاحب! 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات میں ووٹوں کے لحاظ سے پاکستان تحریک انصاف دوسری بڑی پارٹی تھی۔ قومی اسمبلی میں اُس کی 34 نشستیں ہیں اور خیبر پختونخوا میں حکومت بھی اُس کے پاس ہے لیکن جب تک عمران خان کسی بڑی ’’چھتری دی چھاں تھلے‘‘ نہ بیٹھ جائیں تو مَیں اور کوئی اور کیا کرسکتا ہے؟‘‘
مَیں۔ بابا ٹل جی! پھر علاّمہ طاہر اُلقادری کی بات کرتے ہیں کہ کیا واقعی وہ اقوامِ متحدہ یا یورپی یونین کے ذریعے پاکستان میں انقلاب لے آئیں گے؟
بابا ٹلّ۔ ’’مَیں ایک مشہور شعر آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہُوں۔ شاعر نے کہا کہ…؎
’’مَیں میکدے کی راہ سے، ہو کر گُزر گیا
ورنہ سفر حیات کا، بے حد طوِیل تھا‘‘
مَیں۔ بابا ٹل جی! علاّمہ طاہر اُلقادری نے یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے ذریعے شاید اپنے انقلاب کا آسان راستہ سمجھ لِیا ہے۔ کیا اُن کے سر سے انقلاب کا بھوت اُتر گیا ہے؟
بابا ٹلّ نے کوئی جواب نہیں دِیا اور بولے کہ ’’مَیں آپ کیلئے یہ عِید کیک چھوڑ کر جا رہا ہُوں۔ کل صبح ناشتے میں تناول فرمائیں‘‘۔ پھر اُنہوں نے اپنا ٹلّ بجایا۔ میری آنکھ کُھل گئی۔ مَیں یہ دیکھ کر حیرت زدہ تھا کہ کیک میری میز پر موجود ہے۔ ’’بابا ٹلّ کا عِید کیک!‘‘۔